دادر3؍ جولائی ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی ) گؤرکشا کے نام پر ملک میں دلتوں اور مسلمانوں پر صرف شک کی بنیاد پر تشدد ہندوستان کی تہذیب سے میل نہیں کھائے گی۔ گائے کے تحفظ کے نام پر انسانوں کا قتل اس ملک کی تہذیب نہیں ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات پر چلنے والی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے من مانی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو ملک کیلئے شرمناک بات ہے۔ تشدد اور ظلم اور نا انصافی کو روکنے کیلئے تمام طبقات کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہے۔‘ ’ناٹ ان مائی نیم ‘ کے تحت ملک بھر میں جاری احتجاج کی ایک کڑی کے طور پرپیر کو امبیڈ کر نظریات کی پارٹیوں اور دیگر تنظیموں کے ذریعے کوتوال گارڈن سے چیتیہ بھومی ( دادر ) تک زبردست ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر بھاریپ بہوجن مہا سنگھ کے صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈ کرنے مذکورہ بالاخیالات کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے مختلف بینرس اٹھارکھے تھے جن پر لکھا ہوا تھا ’’ نفرت کے خلاف ممبئی کا احتجاج ۔ نفرت کے خلاف انسانیت کی آواز‘۔ مظاہرین نے ’گاندھی ہم شرمندہ ہیں، تیرا قاتل زندہ ہے، تانا شاہی نہیں چلے گی ، غنڈہ راج نہیں چلے گا، مودی راج نہیں چلے گا، مودی سرکار مردہ باد، مودی بھگاؤ، دیش بچاؤ کے پر زور نعرے لگائے گئے ۔
اس موقع پر پرکاش امبیڈ کرنے کہا کہ ’’گؤرکشا کے نام پر جاری پر تشدد واقعات کے خلاف پرامن احتجاج کیا گیا ہے۔ مذہبی جنونیوں اور ہجومی تشدد کے خلاف بیداری مہم شروع کی جائے گی ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ظلم ، تشدد ، قتل اور ناانصافی سماج کے بنیادی ڈھانچوں پر حاوی ہورہی ہے۔ اقلیتیں خوف و ہراس میں زندگی گزررہی ہیں مگر حکومت اس سنگین مسئلے اور تشویشناک حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھارہی ہے۔‘‘
گائے کے تحفظ کے نام پر اائے دن قتل کے واقعات پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پرکاش امبیڈ کر نے کہا کہ ’’ سماج میں بے چینی ، افراتفری کو ختم کرنے نیز ملک کی سا لمیت کو بچانے اور تشدد کو روکنے کیلئے دستور میں انصاف، مساوات اور سیکولرزم ان قدروں کی حفاطت کی خاطر پورا سماج متحد ہونا شروع ہوگیا ہے۔
اس ریلی میں آنند پٹوردھن ، اشوک ڈھولے ، سوکمار دا ملے، پربھا کر نارکر ، واسو دیون، عام آدمی پارٹی کی ترجمان پریتی شرما مینن ، وویک ماٹیرو، سبودھ مورے، رکن اسمبلی وودیا چوان اور دیگر افراد شامل تھے۔
اس احتجاج میں سی پی آئی، سی پی آئی ایم ، لال نشان ، جنتادل، عام آدمی پارٹی، بھارتیہ مہیلا فیڈریشن ، تنظیم انصاف ، انڈین مسلم فار سیکولر ڈیموکریسی ، ودیارتھی بھارتی ، سروشرامک سنگھ اور سمویدھان سموردھن سمیتی اس طرح کل 38؍ تنظیموں نے حصہ لیا اور تشدد کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔